(Facebook) تحریر از: ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن
---
مدارس ہماری زندگیوں کے روحانی چراغ ہیں جو ایمان کی روشنی، کردار کی پختگی اور اخلاق کی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ یہ وہ مقدس تربیت گاہیں ہیں جہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں علم کا نور ، دل کی پاکیزگی اور عمل کی مضبوطی پروان چڑھتی ہے۔ انہی اداروں نے ہمیں ایسے علماء، مصلحین اور داعیان حق عطا کیے ہیں جو معاشرے کو گمراہی سے نکالتے ہیں۔ یہ نہ صرف ہمارے عقیدے اور مذہبی تشخص کے محافظ ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے دلوں میں دین اسلام کی محبت اور خدمت انسانیت کا جذبہ جگانے والے چراغ بھی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں مدارس نے معاشرے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دینی مدارس عہد نبوی صلی الم سے لے کر آج تک اپنے ایک مخصوص انداز سے چلے آرہے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی علیم کے دور میں با قاعدہ دینی مدارس قائم ہوئے اور ان میں تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا۔ ماضی قریب کی تاریخ میں اگر دیکھا جائے تو علامہ محمد اقبال نے حکیم احمد شجاع کے نام اپنے ایک خط میں دینی مدارس کے بارے میں فرمایا تھا:
ان مدارس کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہو گا؟ جو کچھ ہو گا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ اگر بر صغیر کے مسلمان مدارس سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہو گا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔ ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔ ( ابن الحسن عباسی، دینی مدارس)
اس لحاظ سے دینی مدارس اشاعت اسلام کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ یہ دنیا کے لیے " این جی اوز " بھی ہیں، جو لاکھوں طلباء و طالبات کو بلا معاوضہ یا کم معاوضہ زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں رہائش، خوراک اور مفت طبی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں مدرسہ کا نظام غیر منقسم ہندوستان سے وراثت میں ملا تھا۔ 1947ء میں جب پاکستان قائم ہوا تو یہاں 247 دینی مدارس تھے۔ 33 سال بعد 1980ء میں یہ تعداد 2016 ہو گئی ، جبکہ 2020ء تک یہ تعداد 30,000 سے زائد ہو چکی ہے۔ ہزاروں مدارس ابھی تک رجسٹریشن کے عمل سے باہر ہیں۔ حال ہی میں ایک بین الا قوامی ادارے کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف وفاق المدارس سے 19,504 مدارس کا الحاق ہے ، جن میں میں لاکھ کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں مدارس کی تعداد میں دس سے بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم المدارس کے تحت چلنے والے مدارس کی تعداد 2014ء میں 8,300 کے قریب تھی، جو اب 9,000 کے لگ بھگ ہے۔ اس میں پہلے تقریباً 11 لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم تھے ، جو اب بڑھ کر 13 لاکھ کے قریب ہیں۔
اس کے علاوہ بعض مدارس منہاج القرآن، دعوتِ اسلامی اور دارالعلوم غوثیہ محمد یہ بھیرہ شریف کے تحت بھی کام کر رہے ہیں۔ رابطہ المدارس الاسلامیہ پاکستان کے تحت 1,018 مدارس چل رہے ہیں، جن میں ایک سال کے اندر دس سے پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے 450 ادارے طالبات کے لیے ہیں۔ وفاق المدارس السلفیہ کے تحت تقریباً 1,400 مدارس چلائے جارہے ہیں، جن کے طلباء و طالبات کی تعداد میں گزشتہ ایک سال میں دو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اہل تشیع مکتبہ فکر کے پاکستان میں کل ٤٦٠مدارس ہیں، جن میں سولہ سے اٹھارہ ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں، اور ان کی تعداد میں ایک سال میں تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں دس ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ مدارس بھی موجود ہیں۔ گزشتہ اڑھائی سال میں کراچی میں 1,000 سے زائد مدارس رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ (عبد الستار ، پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد میں اضافہ )
آج کی دنیا جس تیزی سے علم کے مختلف شعبوں میں ترقی کر رہی ہے ، وہ توجہ طلب ہے۔ میڈیا اور الیکٹرانک آلات نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ، اور ہم بغیر محسوس کیے من و عن قبول کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ذہنوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ دنیاوی علوم یا سائنس کی تعلیم سے ہمارے مذہب پر آنچ آتی ہے۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے، کیونکہ ہمارے مذہب میں علوم حاصل کرنا، دیگرزبانوں کو سیکھنا اور ان کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں۔ اگر دین کی مکمل جانکاری حاصل کرتے ہیں تو دنیا کے بارے میں بھی مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوتوں نے ابھرتی ہوئی قوتوں کا ساتھ دیا، وہ زندہ رہیں اور ترقی کرتی رہیں، اور جنہوں نے ان سے آنکھیں چرائیں، وہ مٹ گئیں۔ آج ہمارے ملک میں دینی مدارس کا جال پھیلا ہوا ہے، لیکن انہیں خود ساختہ اور ملکی سطح کے مسائل کا سامنا ہے، جو ان کی ترویج و ترقی میں مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔
.مکمل مضمون پڑھنے کے لئے ذیل لنک پر کلک کریں اور مضمون ڈاون لوڈ کریں