تحریر از: ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن (Facebook)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ"
ترجمہ:اور جب اس نے ان کا سامان تیار کیا ۔(سورۃ یوسف)
لفظ جہیز عربی زبان کے لفظ "جھاز" سے نکلا ہے اور اس کا مصدر "تجہیز" ہے۔ مردوں کو دفنانے کو تجہیز و تکفین کہتے ہیں اس میں تجہیز لفظ جہیز سے ہی مشتق ہے مردہ چونکہ بے بس و لاچار ہوتا ہے کفن دفن کا محتاج ہوتا ہے۔ چنانچہ مردے کو دیے جانے والی چند اشیاء جو کفن،خوشبو اور کافور وغیرہ پر مشتمل ہوں تجہیز کہتے ہیں۔(جہیز جوڑے کی رسم)
ہمارے معاشرے میں جہیز سے مراد وہ سامان زیست ہوتا ہے جو شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کے ہمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک قدیم رسم ہے اور ہر ملک اور علاقہ کی اس حوالے سے مخصوص صورتیں ہیں عموما جہیز زیورات، نقدی، فرنیچر، پرچہ جات، ظروف اور دیگر اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے۔(اردو انسائیکلوپیڈیا)
سلمانوں میں یہ رسم یقینی طور پر ہندوؤں سے آئی ہے کیونکہ ہندو لوگ اپنے قدیم قانون کے مطابق بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے اس کی تلافی کے لیے یہ رواج پڑ گیا کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو زیادہ سے زیادہ دیا جائے چنانچہ وہ جہیز کے نام پر بیٹی کو اپنی دولت کا زیادہ سے زیادہ حصہ دینے لگے۔(خاتون اسلام)
جہیز معاشرتی زندگی میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے اس کی اصل تو اس قدر ہے کہ والدین ازراہ محبت اور صلہ رحمی اپنی بیٹی کو اس کی شادی کے موقع پر دیتے ہیں تاکہ وہ نئے گھر میں جا کر والدین کے اس تحفے کو یاد رکھے۔یہ جہیز کا سامان اسے والدین کی محبت یاد دلاتا رہے اور ساتھ ہی اسے نیا گھر بسانے میں سہولت بھی ہو جائے لیکن مختلف معاشروں میں مختلف اوقات میں جہیز کے معاملے میں افراط و تفریط کا رجحان پیدا ہوتا رہا ہے کہیں تو جہیز کو لعنت قرار دیا گیا تو کہیں امیر والدین اسے اپنی عزت اور نام و نمود کے بڑھانے کا ذریعہ سمجھ کر زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کو باعث فخر سمجھتے ہیں ان کی دیکھا دیکھی غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کے لیے مقروض ہو جاتے ہیں اسراف و تبذیر کا ارتکاب کرتے ہیں یہاں تک کہ بینکوں کے سود تلے دب جاتے ہیں۔البتہ مسلمانوں میں مروجہ جہیز جو بیٹیوں کوسنت سمجھ کر دیا جاتا ہے وہ دراصل حضرت فاطمہ کو شادی پر آپ ﷺ کی جانب سے دیے جانے والے سامان کی نوعیت کے بارے میں مغالطہ کی وجہ سے ہے اس سلسلے میں جو روایات آئی ہیں ذیل میں ان کی نوعیت واضح کی جاتی ہے۔
حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت فاطمہ کو سامان مہیا کیا وہ ایک چادر ،مشکیزے اور ایک تکیہ تھاجس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔(سنن نسائی)
حضرت امام قسطلانی رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ حضرت فاطمہ کی شادی کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب حضرت علی نے رسول خدا ﷺسے حضرت فاطمہ سے شادی کی درخواست کی تو آپ ﷺنے فرمایا ! تمہارے پاس حق مہر کے لیے کیا ہے ؟حضرت علی نے فرمایا کچھ نہیں آپﷺ نے ان سے پوچھا تمہاری حطمی ذرہ کہاں ہے؟ اسے فروخت کر دو چنانچہ حضرت علی نے اپنی ذرہ حضرت عثمان کے ہاتھ 480 درہم میں فروخت کی بعض روایات کے مطابق حضرت عثمان نے آپ کی ذرہ خریدی اور بعد میں حضرت علی کو ہدیہ کر دی حضرت علی نے ذرہ کی قیمت نبی کریم کی خدمت میں پیش کی رسول اللہ نے حضرت بلال کو بلایا اور کچھ درہم انہیں دے کر فرمایا کہ اس رقم سے جناب فاطمہ کے لیے خوشبو اور گھر کی ضروری اشیاء خرید کر لاؤ(مواہب اللدنیۃ)۔ حضرت فاطمہ کو جو اشیاء جہیز کی صورت میں لی گئیں ان کا تذکرہ مختلف سیرت نگاروں نے کیا ہے یہ جہیز جن اشیائے ضروری پر مشتمل تھا وہ یہ تھیں ۔ایک سفید قمیص، ایک بڑی چادر سر ڈھانپنے کے لیے ،ایک سیاہ خیبری حلہ، ایک چارپائی جو کھجور کے لیف سے بنی ہوئی تھی، دو عدد توشک گدے کے ایک میں بھیڑ کی پشم بھری گئی تھی جبکہ دوسری میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، ایک عدد چٹائی ،ایک عدد دستی چکی،ایک تانبہ کا پیالہ ،پانی بھرنے کے لیے ایک عدد چمڑے کی مشک، کپڑے دھونے والا ڈنڈا ،دودھ کے لیے ایک عدد پیالہ ،پانی پینے کا ایک عدد پیالہ ،ایک پشمی پردہ، ایک عدد لوٹا، ایک عدد مٹی کا برتن، فرش پر بچھانے کے لیے ایک عدد چمڑا ،دو عدد کوزے، چار عدد تکیے جو بھیڑ کے چمڑے سے بنائے گئے تھے جن کو اذخر نامی خوشبودار گھاس بھرا گیا تھا۔(الطبقات الکبری)۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ یہ سامان حضرت علی کی زرہ کی رقم سے خریدا گیا تھا جو انہوں نے حضرت عثمان کو فروخت کی تھی۔(سیرت ابن اسحاق)
اس تمام تفصیل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس قدر ضروری سامان تھا جو خاتونِ جنت کو دیا گیا تھا۔حضرت فاطمہ کو دیے جانے والے سامان کی نوعیت جہیز کے برعکس تھی یہ سامان جہیز کا سامان نہ تھا بلکہ یہ ایک ضرورت تھی کیونکہ آپﷺ حضرت علی کے سرپرست تھے اور ان کی کفالت کیا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے حضرت علی کے تمام اخراجات رسول اللہ ﷺکے ذمہ تھے اس لیے آپﷺ کا یہ ضروری سامان مہیا کرنا قدرتی امر تھا تاکہ حضرت علی و حضرت فاطمہ اپنی نئی زندگی شروع کر سکیں ۔یہ سامان فراہم کرنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی تھی کہ فاطمہ وعلی ایک نئے گھر میں منتقل ہوئے تھے اگر یہ جہیز ہوتا تو نبی کریمﷺ اپنی دیگر بیٹیوں کو بھی ضرور ایسا جہیز عطا فرماتے۔
حضرت زینب کے بارے میں ایک روایت کا تذکرہ ملتا ہے کہ آپ کی رخصتی کے موقع پر حضرت خدیجہ نے اپنا ہار ان کو رخصتی پر دیا تھا، چنانچہ غزوہ بدر کے موقع پر جب ان کے شوہر ابو العاص قیدی ہو کر آئے تو انہوں نے یہی ہار فدیہ کے طور پر بھیجا جب آپﷺ نے یہ ہار دیکھا تو اسے پہچان لیا ،آپﷺ کا دل پسیج گیا اورحضرت خدیجہ آپ کو یاد آئیں آپ نے ابو العاص کو بلا فدیہ چھوڑ دیا اور زینب کا ہار انہیں واپس کر دیا۔(طبقات الکبریٰ)
حنفی فقہاء کی رائے یہ ہے کہ گھر (اور گھریلو سامان) کی تیاری خاوند کے ذمہ ہے کیونکہ ہر قسم کا خرچہ مثلا کھانا،لباس اور رہائش کی جگہ دینا اس پر واجب ہے اور گھریلو ساز و سامان جسے عرف میں جہیز کا نام دیا جاتا ہے رہائش کے مکان میں داخل ہوتا ہے۔ پس اس اعتبار سے گھریلو ساز و سامان کی تیاری خاوند پر واجب ہے ۔حق مہر جہیز کا عوض نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ صرف اور صرف عطیہ ہے اور وہ خالصتا بیوی کی ملک ہے(الاحوال الشخصیۃ)
مالکی فقہا کے نزدیک اگرچہ جہیز کے سامان کی تیاری عورت کے ذمہ ہے مگر اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہے کہ وہ یہ سامان مہر کی پیشگی رقم (مہر معجل یعنی فوری ادا کیا جانے والا مہر)سے بنائے گی نہ کہ اپنے ذاتی مال یا والدین کے مال سے اگر شوہر کی طرف سے حق مہر میں پیشگی کوئی رقم رخصتی سے قبل اس کے پاس نہ بھیجی جائے تو اس پر سامان جہیز لازم نہیں ہے۔(الاحوال الشخصیۃ)
مشہور تابعی حضرت سعید بن المسیب رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ کے پاس ایک آدمی آیا جایا کرتا تھا ۔ایک مرتبہ وہ کئی دن غائب رہا اور کافی عرصے کے بعد آیا تو حضرت سعید نے غائب رہنے کی وجہ دریافت کی اس نے بتایا کہ اس کی بیوی فوت ہو گئی تھی ،لہذا وہ مصروف رہا حضرت سعید رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ نے اس سے پوچھا کیا تو نے کوئی دوسری شادی کر لی ہے؟ اس نے بتایا کہ میں فقیر ہوں مجھے کون رشتہ دے گا ؟حضرت سعید رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ نے دو درہم مہر کے عوض وہیں اس کا نکاح اپنی بیٹی سے کر دیا ۔ وہ آدمی جب گھر چلا گیا تو شام کو خود اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر اس کے گھر چھوڑ آئے۔ حضرت سعید رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ نے اپنی بیٹی کا یہ رشتہ خلیفہ وقت کو بھی نہیں دیا تھا (الحلیۃ الاولیاء)۔اس واقعے سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شادی کے موقع پر خاوند یا بیوی کی طرف سے سامان جہیز دینا ضروری نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نکاح اور شادی کا لازمی حصہ ہے ورنہ سعید بن مسیب جیسے متبع سنت تابعی کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہ کرتے۔حضرت امام غزالی رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ فرماتے ہیں کہ:یہ چیز نہایت مذموم ہے کہ مرد عورتوں کی دولت پر نظر رکھے اور زیادہ جہیز کی لالچ کریں، ایک اور جگہ فرمایا کہ نکاح، نکاح ہونا چاہیے نہ کہ تجارت اور جوا ہو۔(احیاء علوم الدین)حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:جب کوئی نکاح کرنے والا شخص یہ معلوم کرے کہ اس کی بیوی(جہیز کا سامان اور دولت) کیا لائی ہے تو یہ سمجھ لو کہ وہ شخص چور ہے(احیاء علوم الدین)۔
مذکورہ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ مروجہ جہیز ایک سماجی روایت ہے، شرعی ضرورت نہیں۔ شادی کے موقع پر والدین پر بھاری بھرکم سامان دینے کا جو بوجھ ڈال دیا گیا ہے، اس کی نہ دینی بنیاد ہے اور نہ یہ نکاح کا کوئی لازمی حصہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ روایت دکھاوے، اسراف، مقابلہ بازی اور قرض کے بوجھ میں تبدیل ہو گئی جس سے خصوصاً غریب اور متوسط گھرانے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی کا اصل مقصد سادگی، آسانی اور دو خاندانوں کا باوقار تعلق ہے، نہ کہ غیر ضروری رسومات اور معاشرتی دباؤ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ معاشرہ اس روایت کو فخر یا مجبوری سمجھنے کے بجائے نکاح کو آسان بنانے اور غیر ضروری خرچ سے بچنے کی طرف لوٹے، تاکہ خاندان مالی اور ذہنی بوجھ سے محفوظ رہ سکیں۔