تحریر: محمود علی شاکر ٹمن (Facebook)
---
ٹمن کی تاریخ سینکڑوں سالوں پر محیط ہے، اور موجودہ مقام پر ٹمن تیسری جگہہ پر آباد ہے. ٹمن کے لفظی معانی پر راقم نے تحقیق کی ہے ، تو یہ الفاظ اردو زبان ، ہندی ، فارسی ، اور عربی ، سمیت ، انگریزی زبان میں بھی ان الفاظ کے معانی دستیاب نا ہوئے ہیں.
سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں، سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس کی ضلعی حکومت کے دوران بھارتی صوبہ مشرقی پنجاب کے وزیر تعلیم ہرنام داس جوہر ، اور انکی ( پتنی) یعنی اہلیہ محترمہ للیتا جوہر چکوال دورے پر آئے ، اور جناب ہرنام داس جوہر جنکا جنم ( آستھان) جبی شاہ دلاور ہے اپنے آبائی گھر ، اور اپنے مادر علمی گورنمنٹ پرائمری سکول جبی شاہ دلاور اور گورنمنٹ ہائی سکول ٹمن جہاں اسوقت مڈل تک تعلیم حاصل کی جا سکتی تھی، حکومت پاکستان سے دیکھنے کی درخواست کی جو منظور ہونے پر وہ آئے اور اس موقع پر انکی عمر 79 سال تھی، ان سے ٹمن کے نام بارے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ،، ٹمن قدیم سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بلندی، ٹیکری، ڈھیری، کے ہیں، اس پر انہوں نے بیس منٹ اس موضوع پر تاریخی لیکچر بھی دیا.
ٹمن کی پہلی آبادی موجودہ آبادی سے تقریباً چار کلو میٹر فاصلہ پر برساتی نالہ انکڑ کے پار دشوار گزار پہاڑی ٹیکری، ڈھیری ،بلندی پر واقع بابا میاں ہمایوں شہید کی زیارت کے ساتھ ٹمن کی قدیم آبادی کے آثار پائے جاتے ہیں، باز گشت کے مطابق ٹمن کو شاہ اسماعیل شہید کے بکھرے فوجی فوجی دستوں نے آباد کیا تھا، اور حضرت شاہ اسماعیل شہید کا روضہ زیارت قبر مبارک صوبہ خیبر پختون خواہ بالا کوٹ کے مقام پر ہے، جو افغانستان کے راستے رنجیت سنگھ کی فوجوں سے لڑتے ہوئے حضرت شاہ اسماعیل شہید کے بکھرے فوجی دستوں نے اس شہر کی بنیاد رکھی جہاں حضرت بابا میاں ہمایوں شہید کی زیارت واقع ہے، اور اس قدیم متروکہ آبادی کے جہاں آثار پائے جاتے ہیں سینکڑوں شہدا کی ارد گرد قبریں واقع ہیں،تاریخی حوالہ سے بیان کیا جاتا ہے، کہ اس علاقہ میں اسلام کی تبلیغ کابل کی طرف سے پہنچی جبکہ قدیم دور میں یہ علاقہ ہندو ازم اور سکھ حکومت رنجیت شاہی کے کنٹرول میں تھا، جس طرح افغانستان کے مسلمان سپہ سالاروں نے سینکڑوں سال ہندوستان پر اپنا پایہ تخت جمائے رکھا، اور پنجاب میں سکھوں کا راج رہا تاریخی حوالہ سے ہندو تاجر بنیے یہاں معاشی طور پر مضبوط تھے.
ٹمن کی دوسری متروکہ آبادی بھی برساتی نالہ انکڑ کی بلند ٹیکری پر واقع تھی جس کے ایک طرف بڑی دشوار بلند پہاڑی کنارہ ہے جو قدرتی حفاظتی فصیل تھا ، اور دوسری سمت قدیم قدرتی پانی کے چشمہ واقع ہیں ، جو اب تباہ حالی سے دوچار ہیں ، لیکن چشمے ابل رہے ہیں، قدیم دور میں بلکہ تیس سال قبل تک پختہ اینٹوں سے انکی چشمہ کے اندر سیڑھیاں اور متعدد چشموں کے اطراف چاردیواری موجود رہی ہے، جہان قدیم مسجد اور قبرستان، اور شہدا کی قبریں بھی موجود ہیں ، جبکہ دوسری آبادی بھکا کوٹ پر آثار موجود لیکن ٹمن کی تیسری آبادی بھی سابقہ دو ٹمن کی آبادیوں کی طرح بلند پہاڑی ٹیلے ، ڈھیری پر واقع ہے، اس ٹمن کی نئی آبادی کی تاریخ بھی سینکڑوں سال پر محیط ہے، جسکا قدیم تھانہ ٹمن اندرون آبادی مسجد تھانہ والی کے مقام پر تھا، جبکہ موجودہ تھانہ ٹمن کی بلڈنگ بھی 1865 ،عیسوی کی ہے، اس آبادی کے کئی قدیم قبرستان جو راقم الحروف کی یاداشت میں مسمار کر دئیے گئے، جن میں پڑے والا شہید قبرستان میال روڈ، کنج کنواریاں قبرستان ، لاری اڈا ٹمن پر واقع قبرستان بگی والا قبرستان کا بڑا حصہ، چشمہ والا قبرستان، ٹیوب ویل ائیر مارشل ریٹائرڈ نور خان کے باالمقابل قدیم قبرستان آب آبادی کے نیچے دفن ہو چکا ہے، اسی طرح ساہو والا قبرستان موجود ہے جس پر نصب قبروں کی تختیاں پانچ سو سال تک کی تاریخی شناخت بیان کرتی ہیں،مغلوں کے زوال کے بعد برطانوی تخت شاہی کے دوران مراعت یافتہ خاندان وجود میں آئے، اور انکے ساتھ وفا داریاں قائم کرنے والوں کو معاشی طور پر برطانیہ نے مضبوط کیا اور معاشی معیار سے نئی قومیں قبیلے اس علاقہ پر برطانوی وفادراوں اور باجگزاروں کی صورت طاقت ور بنے اور دیگر معاشی بدحالی کے حوالہ سے محکوم قومیں قبیلے بنائے گئے ٹمن کی موجودہ آبادی میں آج کے معروف خاندانوں میں سابق وزیر ریلوے سردار محمد حیات ٹمن کا خانوادہ بھی بیرون علاقہ سے ٹمن مقیم ہوا ، جنہیں ٹمن آباد ہونے میں بڑی مزاحمت کا سامنا رہا ، ہندوستان کے بٹوارے اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد برطانوی مراعت یافتہ خاندانوں کی اجارہ داری جو کی توں قائم رہی سیاست کے پردھانوں نے ٹمن سے ہر آنے والی حکومت میں اپنا رول ادا کیا، اور ٹمن بدلتے وقت کے ساتھ تعلیمی قابلیت اور بیرون علاقہ بسلسلہ روزگار ہجرت کرتے ہوئے عوام میں شعور و آگہی حاصل ہونے سے تبدیلی آتی گئی.
اس علاقہ کی تابناک تاریخ میں ائیر مارشل ریٹائرڈ ملک نور خان واحد شخصیت ہیں جنہیں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا اور پکارا جاتا رہے گا، باقی سیاسی شخصیات بارے تنقید نگار کوئی رائے دینے سے کنی نہیں کتراتے ، بلکہ انہی وجوہات پر صدا کا سیاسی حکمران ٹمن آج اپنے آبائی علاقے میں سیاسی شکست سے دوچار ہے ،اور مسلم لیگ قاف گجرات کے چوہدری اس حلقہ میں حکومت کر رہے ہیں. گجرات کے چوہدریوں کو اس حلقہ کے عوام نے اپنے سیاسی پردھانوں کو سبق سکھانے کے لئیے کامیاب کیا ہے.
ٹمن جو کہ اپنے نام اور بلند پہاڑی ٹیکری ،ڈھیری پر واقع ہونے کی بنسبت ہمیشہ بلند مقام رکھتا تھا ، اپنے سیاسی رہنماؤں کے بہتر طرز عمل سے اونچائی بلندی حاصل کر لے گا تاھم اپنی تاریخ میں ٹمن بلند اونچائی پر واقع ہے.