(Facebook) تحریر از: ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن
شائع شدہ: ارتقائے فہم
تاریخ: ۳۰ دسمبر، ۲۰۲۵
---
زندگی کے افق پر جب آزمائشوں کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں اور راستے دشوار دکھائی دینے لگتے ہیں، تو یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسان کے حوصلے کا امتحان لیتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ سرخرو ہوئے جنہوں نے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ جلائے رکھا، جن کے قدم لرزے نہیں اور جن کی نگاہیں مقصد سے ہٹیں نہیں۔ با ہمت انسان مشکلات کو دیوار نہیں بلکہ زینہ سمجھتا ہے، اسی لیے تقدیر بھی اس کے عزم کے آگے سر جھکا دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قسمت خود آگے بڑھ کر ان لوگوں کا ہاتھ تھام لیتی ہے جو ہار ماننے کے بجائے ثابت قدمی کو اپنا شعار بناتے ہیں، کیونکہ حوصلہ جب پختہ ہو تو نا ممکن بھی ممکن میں ڈھل جاتا ہے۔
لی کا شنگ 1928 میں چین کے شہر شان تا میں پیدا ہوا جاپان نے 1940 میں جب چین پر چڑھائی کی تو یہ اپنے والدین کے ساتھ ہانگ کانگ آ گیا۔ شروع شروع میں یہ اپنے چا کے گھر رہے چچا دولت مند اور مغرور تھا جس کی وجہ سے بہت جلد یہ اس کا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔ اس کا والد ایک کمپنی میں مزدوری کرتا تھا۔ ایک دن مزدوری کرتے ہوئے وہ گر جاتا ہے جب مالک اٹھا کر ہسپتال لے گیا تو پتا چلا انہیں کینسر ہے اور وہ بھی آخری اج پر پیہ سن کر لی گھبرا گیا لیکن یہ گھبراہٹ اس کے کسی کام نہ آئی چند دن بعد اس کا والد دنیا سے چلا گیا اور خاندان کا سارا بوجھ 14سال کے بچے لی کے کندھوں پر آ گرا۔ وہ یہ ذمے داری نبھانے لگالی کا شنگ نے گھڑیاں بیچنے سے کام شروع کیا اور یہ بہت جلد پلاسٹک کے کاروبار میں آگیا۔ فارغ وقت میں پلاسٹک بنانے کی مشین چلاتا تھا یہاں تک کہ یہ مشین چلاتے چلاتے پورے پلانٹ کا کام سمجھ گیا ۔ یہ باہمت انسان تھا اور قسمت ہمیشہ باہمت لوگوں کا ساتھ دیتی ہے۔ اس نے 1950 میں نوکری چھوڑی دی عزیزوں رشتے داروں اور دوستوں سے رقم ادھار لی اور پلاسٹک کے کھلونے بنانے کی چھوٹی سی فیکٹری اپنی لگالی۔ یہ پہلا بندہ تھا جس نے ہانگ کانگ میں پلاسٹک کے پھولوں کی فیکٹری لگائی چند سالوں میں یہ پوری دنیا میں پھول سپلائی کرنے لگا۔ اس نے مستقبل کو ذہن میں رکھ کر ہانگ کانگ میں دھڑا دھڑ پراپرٹی خرید نا شروع کر دی اس نے شراکت داری پر فلیٹس اپارٹمنٹس اور گھر بنانا شروع کر دیے یوں اس کا کاروبار پھیلتا چلا گیا یہاں تک کہ یہ بینکاری تعمیرات رئیل اسٹیٹ پلاسٹک موبائل فونز سیٹلائیٹ ٹی وی سیمنٹ سپر مارکیٹس ہوٹلز ٹرانسپورٹیشن ائیر پورٹس اسٹیل انٹرنیٹ بجلی اور انشورنس کی تین درجن کمپنیوں کا مالک بن گیا اس کے ملازمین کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے یہ دنیا کا 38 واں امیر ترین شخص بن گیا اس کا کاروبار دنیا کے 55 ملکوں تک پھیل گیا۔
لی کاشنگ 97 سال کی عمر میں بھی سب سے پہلے دفتر پہنچتا ہے اور آخر میں گھر واپس آتا ہے یہ ملنے والے ہر شخص کو اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دکھاتا اور بڑے فخر سے بتایا کرتا یہ گھڑی میں نے 14 سال کی عمر میں خریدی تھی یہ مجھے وقت کے ساتھ ساتھ میری اوقات بھی بتاتی رہتی ۔ لی کا شنگ کہا کرتا تھا میں خوش قسمت نہیں تھا چناچہ میں نے محنت کو اپنی خوش قسمتی بنا لیا۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ انسان اگر حالات کے سامنے ہمت نہ ہارے اور محنت کو اپنا شعار بنالے تو محرومیاں بھی کامیابی کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ وقت کی قدر، مقصد سے وابستگی اور مسلسل جدوجہد انسان کو معمولی مقام سے بلند ترین مرتبے تک پہنچا دیتی ہے۔
بلا شبه قسمت اسی کا ساتھ دیتی ہے جو خود اپنی تقدیر سنوارنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ثابت قدمی اور پختہ ارادہ وہ صلاحیت ہے جو ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہیں۔