bridge
ماڈل ویلج پروگرام: خوش آئند قدم، مگر 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق؟
ماڈل ویلج پروگرام ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم 21ویں صدی میں بھی ترقی کو صرف سڑک اور نالی تک محدود رکھیں گے؟ ڈیجیٹل سہولیات، روزگار اور جدید تعلیم کے بغیر کوئی بھی گاؤں حقیقی معنوں میں ماڈل نہیں بن سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ترقی کے معیار کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو متعین کیا جائے۔

پنجاب حکومت کے ماڈل ویلج پروگرام کے پہلے مرحلے میں ضلع تلہ گنگ کے تین دیہات — جھاٹلہ، کوٹ سارنگ اور ملکوال — کو شامل کیا گیا ہے، جو بلاشبہ دیہی ترقی کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔ اس پیش رفت پر مقامی نمائندگان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں اور اس سے یہ امید بھی پیدا ہوتی ہے کہ دیگر دیہات بھی مستقبل میں اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔

modelvillage_maryam

 

تاہم، بطور شہری اور بطور کمیونٹی پلیٹ فارم Tamman.pk سے وابستہ فرد، یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ ہم “ماڈل ویلج” کو آخر کس معیار پر جانچ رہے ہیں؟ اور کیا یہ معیار آج کی تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟

کیا ٹمن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

 

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ تمن کو ماڈل ویلج پلان میں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟
جبکہ تمن کی سیاسی اور سماجی سطح پر نمائندگی خاصی مضبوط رہی ہے، تو پھر کیا یہ محض اتفاق ہے یا کہیں نہ کہیں سیاسی ترجیحات یا رقابتیں ترقیاتی فیصلوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں؟

 اگر ترقی کا مقصد واقعی عوامی فلاح ہے تو پھر اس کا دائرہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہونا چاہیے۔

 

ماڈل ویلج کے معیارات: کیا یہ کافی ہیں؟

 

فی الحال ماڈل ویلج کے لیے جن سہولیات کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں شامل ہیں:
صاف پانی، نکاسی آب، پختہ گلیاں، اسٹریٹ لائٹس، صحت و صفائی وغیرہ۔

 یہ سب سہولیات یقیناً ضروری ہیں، مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جنہیں پاکستان بننے کے بعد پچھلے 75 سال میں ہی یقینی بن جانا چاہیے تھا۔

آج کے دور میں اگر ہم کسی گاؤں کو “ماڈل” کہنا چاہتے ہیں تو معیار بھی جدید ہونا چاہیے۔ Tamman.pk کی نظر میں ماڈل ویلج کے جدید معیارات کچھ یوں ہونے چاہئیں:

 

 

  • تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز

  • ڈیجیٹل تعلیم اور بنیادی ٹیکنالوجی اسکلز کی تربیت

  • صاف اور متبادل توانائی کے ذرائع (سولر، گرین انرجی)

  • تعلیم کے ساتھ روزگار اور کاروبار کے مواقع

  • 24/7 طبی سہولیات، ڈسپنسری، ایمبولینس سروس

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سہولیات

  • کاروباری ماحول کی پیش گوئی کے قابل سہولتیں (Predictable Business Environment)


اگر ہم واقعی دیہات کو شہروں کے برابر مواقع دینا چاہتے ہیں تو صرف سڑک اور نالی سے بات آگے بڑھانی ہوگی۔

شفاف اسکور کارڈ اور عوامی رپورٹنگ کی ضرورت

ایک اور اہم پہلو جس پر توجہ دینا ضروری ہے وہ ہے شفافیت۔ حکومت کو چاہیے کہ:

 

  • ماڈل ویلج کے لیے واضح اسکور کارڈ جاری کرے

  • ہر مرحلے کے اہداف اور تکمیل کی تاریخیں پبلک کی جائیں

  • باقاعدہ بنیادوں پر پیش رفت کی رپورٹس شائع کی جائیں

 


اس سے نہ صرف عوام کو اعتماد ملے گا بلکہ مختلف دیہات اور یونین کونسلز کے درمیان مثبت مقابلہ بھی پیدا ہوگا، جو مجموعی ترقی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

Tamman.pk کا ممکنہ کردار

ایک ڈیجیٹل کمیونٹی پلیٹ فارم کے طور پر Tamman.pk اس پورے عمل میں ایک معاون کردار ادا کر سکتا ہے:

 

  • ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کو عوام تک پہنچانا

  • زمینی حقائق اور عوامی آراء کو اجاگر کرنا

  • ڈیٹا، تصاویر اور رپورٹس کے ذریعے شفافیت کو فروغ دینا

  • نوجوانوں کو ڈیجیٹل ترقی کے عمل میں شامل کرنا

 


ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی صرف سرکاری منصوبوں سے نہیں، بلکہ کمیونٹی کی شمولیت سے ہی پائیدار بنتی ہے۔

نتیجہ: سمت درست ہے، رفتار اور وژن کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے

 

ماڈل ویلج پروگرام ایک خوش آئند قدم ہے، مگر اگر ہمیں واقعی اپنے دیہات کو مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے تو ہمیں اپنے تصوراتِ ترقی کو بھی اپڈیٹ کرنا ہوگا۔ 21ویں صدی میں ماڈل ویلج وہی ہو سکتا ہے جو ڈیجیٹل، خودمختار، ماحول دوست اور معاشی طور پر متحرک ہو۔

امید ہے کہ آنے والے مراحل میں حکومت ان پہلوؤں پر بھی سنجیدگی سے غور کرے گی اور تمن سمیت دیگر مستحق دیہات کو بھی اس سفر میں شامل کیا جائے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

لکھنا چاہتے ہیں؟ ہمیں اپنی تحریریں بھیجیں اور ہم شائع کریں گے

Close Welcome Bar